ظن و تخمین

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - گمان و اندازہ، شک و شبہ، وہم و قیاس، خیال۔ "اول الذکر ظن و تخمین کے اندیشوں اور وسوسوں میں گھرا رہتا ہے اور پھونک پھونک کر قدم اٹھاتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، مطالعہ اقبال کے چند پہلو، ١٤٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'ظن' کے ساتھ 'واو' بطور حرف عطف لگا کر عربی اسم 'تخمین' لگانے سے مرکب عطفی بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٨ء کو "حیات جاوید" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گمان و اندازہ، شک و شبہ، وہم و قیاس، خیال۔ "اول الذکر ظن و تخمین کے اندیشوں اور وسوسوں میں گھرا رہتا ہے اور پھونک پھونک کر قدم اٹھاتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، مطالعہ اقبال کے چند پہلو، ١٤٠ )

جنس: مذکر